چین کے صوبہ جیانگسو سے تعلق رکھنے والے 75 سالہ ژو یونچانگ اپنے معذور نواسے جِنگ ین کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بیوٹی انفلوئنسر بن گئے ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق جِنگ ین ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کی ایک نایاب بیماری میں مبتلا ہے، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ ژو یونچانگ دن کے وقت نواسے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جبکہ رات کو لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے بیوٹی مصنوعات فروخت کرتے ہیں، اس کام میں ان کی اہلیہ بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جِنگ ین کے علاج کے لیے سال میں دو انجیکشن درکار ہوتے ہیں، جن پر سالانہ تقریباً 14 لاکھ یوآن (تقریباً 2 لاکھ 6 ہزار امریکی ڈالر) خرچ آتا ہے۔ علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے خاندان اپنا فلیٹ فروخت کر چکا ہے اور رشتہ داروں سے بھی قرض لیا جا چکا ہے۔
ژو یونچانگ کا کہنا ہے کہ اپنی بیٹی کی ذہنی کیفیت اور نواسے کے علاج کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے رقم جمع کرنے کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے کا فیصلہ کیا۔